1. Home
  2. Stanislavski and the system Essay
  3. Waqt ki ahmiyat in urdu essay

Waqt ki ahmiyat in urdu essay

Waqt Ki Pabandi Article Inside Urdu Waqt Ki Ahmiyat Punctuality regarding Precious time will be Funds Qadar Importance

Back to: Urdu Essays

اگر آج ہمارے ہاتھ سے دولت نکل جائے توکل کو واپس بھی آ سکتی ہے۔اگر کل کو ہمارا کوئی دوست روٹھ جائے تو پرسوں اسے منایا بھی جاسکتا ہے۔اگر اس سال ایک مکان زمین پر گر پڑے تو اگلے برس اس کی تعمیر بھی ہو سکتی ہے۔اگر ان دنوں ہماری صحت جواب دینے لگے تو آنے والے ایام میں اس نقصان کو پورا بھی کیا جا سکتا ہے۔لیکن وقت کا خزانہ وہ بیش قیمت خزانہ ہے کہ اگر ایک بار ہاتھ سے نکل گیا دنیا بھر کی دولتیں اسے واپس نہیں لا سکتیں۔وقت کا ایک لمحہ ہزاروں لاکھوں اشرفیوں سے بڑھ چڑھ کر قیمت رکھتا ہے۔اس کے سامنے ہر قیمتی چیز خاک free mary wolfe essays برابر بھی وقعت نہیں رکھتی۔جلیل القدر بادشاہ سکندر اعظم نے مرتے وقت یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر مجھے چند منٹ اور زندہ رہنے کی مہلت مل جاے تو اس کے بدلے میں تمام سلطنت قربان کرنے کو تیار ہوں۔مگر دنیا کی کوئی طاقت اس کی خواہش کو پورا نہ کرسکی ۔فلسفی حیران تھے وزیر دم بخود رہ گئے۔امیر بے بس تھے۔ مشیروں کو کوئی چارہ نہ سوجھا۔ وقت کے سامنے کسی کی پیش نہ گئی۔


‌اسی حقیقت کی روشنی میں داناؤں نے waqt ki ahmiyat inside urdu essay وقت کی قدر کا پیغام دیا ہے۔انہوں نے تلقین کی کہ ہم ہر کام میں وقت کے پابند رہیں۔ بے کار اور بے فائدہ کام کرنے میں ایک لمحہ بھی اکارت نہ جانے دیں۔قانون قدرت ہمیں قدم قدم پر پابندی وقت کا سبق سکھاتا ہے۔سورج کو دیکھو وقت پر طلوع ہوتا ہے اور وقت پر ڈو بتا ہے۔ زمین کو دیکھو کس باقاعدگی کے ساتھ اپنے محور اور سورج کے گرد گھومتی learn that 50 suggests essay وہ اس گردش میں ذرا بھی لغزش کھا جائے تو دنیا میں قیامت بپا ہو جائے۔ فصلیںں موسموں کے مطابق وقت پر اگتی اور پکتی ہیں اگر ان کے اوقات میں خلل واقع ہو جائے تو دنیا بھوکی مر جائے۔ یہی حال انسانوں اور قوموں کا ہے۔ جو انسان وقت کی قدر نہیں کرتا وہ ذلیل و خوار ہو کر مرتا ہے اس سے کسی کو کامیابی نہیں ہو سکتی۔ جو قوم وقت اور موقعہ کو غنمیت نہیں جانتی وہ دنیا میں پچھڑ جاتی ہے۔
زندگی چند روزہ ہے۔اس لئے وقت کی قدر اور بھی زیادہ ہونی چاہیے اور اس مختصر زندگی میں ایک لحمہ بھی ضایع نہ waqt ki ahmiyat on urdu essay چاہیے۔جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں وہ ہر کام جلدی سے جلدی انجام دیتے ہیں اور کھبی cutting regarding stone contributor essay وقت کی کمی کی شکایت نہیں کرتے۔ ان کے تمام کام عین وقت پر یا اس سے پہلے ہی پورے ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو آدمی سست اور غافل ہوتا ہے اس کا وقت یوں ہی گذر جاتا ہے اور وہ کوئی کام وقت پر نہیں کر سکتا اس لیے اس کے کام ادھورے رہ جاتے ہیں اور وہ نا کام و نامراد ہو کر کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے۔ وقت کی پابندی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے وقت کو سوچے music ersus toscanini essay پروگرام کے مطابق صرف کریں بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کا وقت بھی ضایع نہ کریں۔

وقت کا پابند رہنے کی عادت بچپن ہی میں ڈالنا ضروری ہے۔چھوٹی عمر میں جو بری عادتیں پڑ جاتی ہیں وہ جوانی اور بڑھاپے میں بھی قائم رہتی ہیں اور مرتے دم تک ساتھ نہیں چھوڑتیں ان سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے اس لیے بچپن میں ہی اچھی عادتیں پختہ ہونی چاہیئے ہر کام وقت پر کرنے کی عادت بہت اچھی اور مفید عادت ہے اس لیے زندگی کے اوائل میں ہی اسے ڈالنا اور پختہ کر لینا چاہیے اس سے ساری زندگی عیش و سکون کے ساتھ گزرے گی۔ کامیابی قدم چومے گی وقت پر سونا، وقت پر جاگنا، وقت why conduct i currently have to make sure you craft essays کھانا پینا، وقت waqt ki ahmiyat during urdu essay بیٹھنا، وقت پر کھیلنا غرض ہر کام مناسب وقت پر سر انجام دینا وہ اکسیر ہے کہ کوڑیوں کے مول حاصل ہو سکتی ہے لیکن خزانوں کے عوض بھی ہاتھ سے نہیں جانے دینی چاہیے۔ گاڑی چلنے سے ایک گھنٹہ پہلے سٹیشن پر جا کر بیٹھا رہنا گویاقیمتی وقت کو مٹی میں ملانا ہے ۔امتحان کے کمرے میں چند منٹ glaucoma content articles 2013 essay سے پہنچے تو ‏سال بھر کی محنت پر پانی پھر گیا۔ اگر صحت، ترقی، شہرت، عزت اور سب سے بڑھ کر کیریکٹرکی نعمتوں سے مالامال ہونے کی آرزو ہے تو ہر حال میں وقت کے پابند رہو۔نیلسن کے کلمات قابل ذکر ہیں "ہر کام وقت مقررہ پر کرنے کو تیار رہو” اگر آج کا کام کل پر ڈال دو اور کل کا فرض اٹھا کر پرسوں پر ٹال دیا تو پرسوں کا معاملہ ترسوں پر جا پڑے گا stages associated with wireless essay تم ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے اور پھر کل کس نے دیکھا ہے۔

دانا ہو یا نادان!

وقت سب کے لیے برابر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نادان نہیں جانتا کہ اسے کہاں لگائے۔لہذا وقت اس کے لیے وبال بن جاتاہے۔دانا وقت کے لمحے لمحے سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مصروف رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دانا اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں کہ قیامت تک ان کا نام زندہ رہے گا۔افلاطون اور ارسطو، گوتم اور ویاس،سکندر اور نپولین، اور دیگر اہل کمال کے کارناموں پر ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ان لوگوں کا سال بھی بارہ waqt ki ahmiyat through urdu essay کا اور دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔ان کی ناموری اور عظمت کا راز کیا تھا ؟پابندئ
وقت….